صحت مند اور تندرست بچہ کسی مشکل اور محنت کے بغیر
آسانی سے سانس لیتا ہے۔ اسے ہر 2 سے 4 گھنٹوں کے بعد دودھ پینا چاہیے اور جب بھوکا
ہو یا گیلا ہوجائے تو اسے خود جاگنا چاہیے۔ اس کے جسم کی کھال صاف ہونی چاہیے یا
کچھ سرخی مائل ہونی چاہیے یا جسم پر خارش کے ہلکے سے نشان ہوں، جو چند روز میں صاف
ہوجاتے ہیں۔ جس بچے میں یہ سب علامتیں نہ ہوں، وہ مشکل میں ہوسکتا ہے اور اسے جلد
مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
بچے کا رونا
کچھ بچے دوسرے بچوں کے مقابلے میں زیادہ روتے ہیں۔ جو بچہ زیادہ روتا ہے اور اس کی صحت کی دیگر علامات درست ہیں تو عام طور پر وہ ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے۔ دیکھیں کہ جب وہ رو نہیں رہا تو کیا وہ معمول کے مطابق سانس لیتا ہے۔ بچے کا تقریباً مستقل روتے رہنا، جو رات کے وقت زیادہ شدید ہوجاتا ہے، پیٹ کے درد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسے تین مہینوں میں ٹھیک ہوجانا چاہیے۔ یہ کیفیت بچے سے زیادہ گھر والوں کے لیے پریشانی کا باعث ہوتی ہے۔ ایسے بچے کی ماں کے ساتھ مہربانی کا رویہ اپنائیں اور خیال رکھیں کہ ماں کو وہ آرام اور مدد مل رہی ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔ جو بچہ دن کے اکثر اوقات میں روتا رہے، کچھ نہ کھائے، اسے بخار ہو یا سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہو تو سوچیں کہ کہیں اسے انفیکشن تو نہیں ہے۔
کچھ بچے دوسرے بچوں کے مقابلے میں زیادہ روتے ہیں۔ جو بچہ زیادہ روتا ہے اور اس کی صحت کی دیگر علامات درست ہیں تو عام طور پر وہ ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے۔ دیکھیں کہ جب وہ رو نہیں رہا تو کیا وہ معمول کے مطابق سانس لیتا ہے۔ بچے کا تقریباً مستقل روتے رہنا، جو رات کے وقت زیادہ شدید ہوجاتا ہے، پیٹ کے درد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسے تین مہینوں میں ٹھیک ہوجانا چاہیے۔ یہ کیفیت بچے سے زیادہ گھر والوں کے لیے پریشانی کا باعث ہوتی ہے۔ ایسے بچے کی ماں کے ساتھ مہربانی کا رویہ اپنائیں اور خیال رکھیں کہ ماں کو وہ آرام اور مدد مل رہی ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔ جو بچہ دن کے اکثر اوقات میں روتا رہے، کچھ نہ کھائے، اسے بخار ہو یا سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہو تو سوچیں کہ کہیں اسے انفیکشن تو نہیں ہے۔
No comments:
Post a Comment