الٹی اور قے
ننھے بچے دودھ نکالتے ہیں۔ بعض مرتبہ اس کی مقدار زیادہ
ہوتی ہے اور یہ ان کے منھ اور ناک سے باہر آتا ہے۔ اگر بچہ باقاعدگی سے دودھ پی
رہا ہے اور اس کا وزن بڑھ رہا ہے تو دودھ نکالنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جب بچہ دودھ
پی چکے تو اسے ہاتھوں یا گود میں سیدھا رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر الٹی یا قے کرتے
وقت بچہ زور لگا رہا ہے اور منھ سے دودھ کے بجائے مواد خارج ہو رہا ہے تو یہ الٹی
یا قے ہے۔
خطرے کی علامات
· بار بار الٹی اور قے کرنا اور معدے میں کسی
چیز کا زیادہ دیر نہ رکنا
·
خون
کی قےآنا

جسم میں پانی کی
کمی کی علامات
اسباب
§
دستوں کی بیماری
§
الٹیاں اور قے
§
ہر 2 سے 4 گھنٹوں
بعد دودھ پینے میں کمی
§
ماں کے دودھ کے سوا
کوئی اور چیز کھانا یا
پینا (مثلاً ڈبے کا دودھ، پورچ یا پانی)
§
گرم پانی پینا
|
علامات
§
پیشاب کا کم آنا،
گہرا یا تیز بو والا پیشاب کرنا
§
منھ اور زبان کا خشک
ہونا
§
آنکھوں کی چمک اور
جِلد کی تازگی میں کمی
|
جسم میں پانی کی
کمی (ڈی ہائیڈریشن)
بچے آسانی سے جسم میں پانی کی شدید کمی کا شکار ہوسکتے
ہیں اور بچوں کے جسم میں پانی کی کمی ان کے لیے خطرے کا باعث ہوتی ہے۔
اسباب
دستوں کی بیماری
الٹیاں اور قے
ہر 2 سے 4 گھنٹوں بعد دودھ پینے میں
کمی
ماں کے دودھ کے سوا کوئی اور چیز کھانا
یا
پینا (مثلاً ڈبے کا دودھ، پورچ یا پانی)
گرم پانی پینا
|
علامات
پیشاب کا کم آنا، گہرا یا تیز بو والا
پیشاب کرنا
منھ اور زبان کا خشک ہونا
آنکھوں کی چمک اور جِلد کی تازگی میں
کمی
|
لیکن کوئی بھی بچہ جسم میں پانی کی کمی کا شکار ہوسکتا
ہے۔ اگر جسم میں پانی کی کمی بہت شدید ہوجائے تو بچے کی آنکھیں دھنس سکتی ہیں، سر
کے اوپر کا حصہ نرم ہوکر اندر دھنس جاتا ہے، وزن کم ہوجاتا ہے اور بچہ آواز یا
حرکت پر توجہ نہیں دیتا۔
علاج
جسم میں پانی کی کمی کی پہلی علامت نظر آتے ہی یا اگر
بچے کو دست آرہے ہوں یا وہ بار بار الٹی کر رہا ہو تو اسے زیادہ مرتبہ اور ہر
بار اس وقت تک دودھ پلائیں جب تک وہ پیتا رہے۔ کم از کم ہر دو گھنٹے
بعد دودھ پلانے کے لیے بچے کو جگائیں، آپ بچے کو نمکول بھی دے سکتی ہیں
(شکر، ذرا سے نمک اور پانی کا مشروب جسے آسانی سے تیار کیا جاسکتا ہے۔ اپنا دودھ
پلانے کے بعد بچے کو نمکول پلائیں۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ ماں بچے کو زیادہ سے
زیادہ دودھ پلانا چاہتی ہے لیکن اس کی چھاتیوں میں دودھ نہیں بنتا۔ اگر جسم میں
پانی کی کمی کے شکار بچے کی حالت چند گھنٹوں میں بہتر ہوتی نظر نہ آئے تو بچے کے
جسم میں مائع پہنچانے کے لیے فوراً طبی مدد حاصل کریں۔
دَدَوڑے

نوزائیدہ بچوں کے جسم پر ددوڑے یا دھبے ہوسکتے ہیں یا
جلد کا رنگ کچھ مختلف ہوسکتا ہے۔ عام طور پر یہ سب علامتیں نقصان نہیں پہنچاتیں
اور چند روز میں خود ختم ہوجاتی ہیں۔ اگر پیشاب یا پاخانے کی وجہ سے بچے کا جسم
دیر تک گیلا رہے تو کولھوں پر خارش یا ددوڑوں کے نشان ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ہر مرتبہ
پیشاب یا پاخانہ کرنے پر بچے کا جسم اچھی طرح صاف اور خشک کریں۔ گیلے پوتڑے تبدیل
کریں۔ اگر بچہ بڑا ہو اور موسم گرم ہو تو بچے کو پوتڑا نہ پہنائیں اور کچھ دیر
یونہی رہنے دیں۔ زنک آکسائڈ کی کریم سے دَدوڑوں کا علاج کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر
چند روز میں ٹھیک نہ ہوں تو یہ خمیری انفیکشن ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے نسٹاٹِن کریم
استعمال کریں
پیلیا، جوائنڈیس

اگر بچے کی جِلد اور آنکھیں پیلی نظر آئیں تو اسے پیلیا
یا جوائنڈیس کہتے ہیں۔ بچے کا رنگ گہرا ہو تو اس کی آنکھیں دیکھیں۔ پیدائش کے بعد
دوسرے دن سے پانچویں دن کے درمیان ہونے والا پیلیا خطرناک نہیں ہے۔ اس کا بہترین
علاج بچے کو زیادہ سے زیادہ ماں کا دودھ پلانا ہے۔ اس سے بچے کے جسم سے وہ کیمیائی
مواد خارج ہونے میں مدد ملتی ہے جو اس کے رنگ کو پیلا بنا رہا ہے۔ بچے کو ہر دو
گھنٹے بعد جگا کر دودھ پلائیں۔ سورج کی روشنی بھی علاج میں مدد کرتی ہے۔ بچے کو
ننگے جسم کے ساتھ 15 منٹ تک دھوپ میں رکھیں اور یہ عمل دن میں چند مرتبہ دہرائیں۔
خطرے کی علامات
· پیلیا پیدائش کے بعد پہلے 24 گھنٹوں کے
اندر لاحق ہوجائے۔
· پیلیا بعد میں شروع ہو لیکن پورے جسم پر اس
کے اثرات نمایاں ہوں۔
· پیلیا کا مریض بچہ بہت زیادہ سوتا ہے اور
دودھ پینے کے لیے بھی نہیں جاگتا۔
ان علامتوں میں سے کسی کے بھی نظر آنے پر طبی مدد حاصل کریں۔
آنکھیں
وہ چھوٹا سا سوراخ جس کے راستے آنسو اور روغنی مادہ
نکلتا ہے اور آنکھوں کو نم رکھتا ہے بند ہوسکتا ہے اور آنکھوں کے اندر کے حصے میں
اس طرح مواد جمع ہوجاتا ہے۔ نرم کپڑے کو ہلکے گرم پانی سے بھگو کر آنکھ صاف کریں۔
ہر آنکھ کے لیے الگ کپڑا استعمال کریں۔ اس احتیاط کی وجہ سے اگر ایک آنکھ میں
انفیکشن ہوگا تو وہ دوسری آنکھ کو نہیں لگے گا۔ اگر پیدائش کے 5 دن بعد بچے کی
آنکھ کے پپوٹے سوجے ہوں اور ان میں سرخ پیپ سی دکھائی دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ
بچے کی آنکھیں سوزاک یا کلے مائی ڈیا
کے انفیکشن سے متأثر ہیں۔ بچے کو منھ کے ذریعے ایریتھرو مائی سین کی خوراک دیں۔ دوا کو پیس کر دودھ میں ملائیں اور بچے کو پلائیں۔ ماں اور باپ کا بھی سوزاک اور کلے مائی ڈیا کا علاج ہونا چاہیے۔ اگر آنکھ کا انفیکشن ایک سے دو دن میں ٹھیک نہ ہو تو بچے کو اندھا ہونے سے بچانے کے لیے آپ کو کسی اور اینٹی بایوٹکس کی ضرورت ہوگی۔ فوراً طبی مدد حاصل کریں۔
کے انفیکشن سے متأثر ہیں۔ بچے کو منھ کے ذریعے ایریتھرو مائی سین کی خوراک دیں۔ دوا کو پیس کر دودھ میں ملائیں اور بچے کو پلائیں۔ ماں اور باپ کا بھی سوزاک اور کلے مائی ڈیا کا علاج ہونا چاہیے۔ اگر آنکھ کا انفیکشن ایک سے دو دن میں ٹھیک نہ ہو تو بچے کو اندھا ہونے سے بچانے کے لیے آپ کو کسی اور اینٹی بایوٹکس کی ضرورت ہوگی۔ فوراً طبی مدد حاصل کریں۔
نرم جگہ
سر کے درمیان نرم حصہ (تالو) سپاٹ ہونا چاہیے۔ اندر
دھنسا ہوا یا سوجا ہوا تالو دونوں شدید خطرے کی علامتیں ہیں۔
دھنسا ہوا
تالو جسم میں پانی کی کمی کی
علامت ہے۔ بچے کو ماں کا دودھ زیادہ پلائیں اور نمکول بھی دیں۔ |
سوجا ہوا تالو
گردن توڑ بخار
کی علامت ہے۔ |
نال
نال
کاٹنے کے بعد پیٹ پر اس کے ٹُھنٹھ کو ایسے ہی رہنے دیں۔ اسے ڈھانپے نہیں۔ پوتڑے
یا کپڑوں کو اس سے دور رکھیں۔ اسے ہاتھ نہ لگائیں۔ اگر ہاتھ لگانا ضروری ہو تو
پہلے ہاتھوں کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھو لیں۔ اگر ٹُھنٹھ یا ناف پر گند
جمع ہوجائے یا اس پر خون کی پپڑی نظر آئے تو صاف اور نرم کپڑے کو صابن کے پانی
میں بھگو کر اسے نرمی سے صاف کردیں۔ اگر ماں نال کے ٹھنٹھ یا ناف کو کسی پٹی یا
کپڑے سے ڈھانپنا چاہے تو یہ یقین کرلیں کہ کپڑا یا پٹی صاف ہے اور ڈھیلی بندھی
ہے۔ ہر روز اس کپڑے یا پٹی کو کئی مرتبہ تبدیل کریں۔ نال کا ٹھنٹھ ایک ہفتے کے
اندر خشک ہوکر گر جاتا ہے۔ اگر ناف کے آس پاس کا حصہ سرخ نظر آئے یا گرم محسوس
ہو یا ناف سے پیپ آرہی ہو تو اس کا مطلب شاید یہ ہے کہ انفیکشن ہوگیا ہے۔ اسے
اچھی طرح صاف کریں اور بچے کو ایموکسی سیلین دیں۔ اگر
بچہ کا مزاج بگڑا رہے، وہ دودھ نہ پی سکتا ہو یا جسم اکڑا محسوس ہو، خاص طور پر
ناف کے آس پاس کا حصہ سخت ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نال میں انفیکشن تھا اور
بچے کو تشنج ہوگیا ہے۔ یہ ایک ہنگامی حالت ہے۔
|

No comments:
Post a Comment